سر زمین سعودی عرب

رہائشں کی الاٹمنٹ

مکہ معظمہ میں رہائشیں  پہلے سے حاصل کر لی جاتی ہیں اور بذریعہ کمپیوٹر مختص کی جاتی ہیں۔کمروں کی الاٹمنٹ کے سلسلے میں گروپ لیڈر ،معاونین الحجاج اور سرکاری اہلکاروں کے مشورے پر عمل کریں ،خصوصاً عمر رسیدہ اور خواتین عازمینِ حج کی ضروریات کو اولیت دیں ۔ اپنی پسند یا ناپسند کی بجائے دوسروں کی خواہش کا احترام کر کے زیادہ ثواب حاصل کریں۔  رہائش  کے سلسلے میں مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل کریں:

  • اپنے کمرے میں کبھی بھی کسی مہمان کو نہ ٹھہرائیں۔ یہ سعودی حج قوانین اور حجاج کی سلامتی کے خلاف ہے۔ شکایت کی صورت میں آپ کو اپنے مہمان کا پورا کرایہ بطور جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ نیز مہمان کا اقامہ ضبط کیا جا سکتا ہےاور اسے حوالہ پولیس کیا جا سکتا ہے۔
  • غسل خانہ کی کمی کی شکایت عام ہوتی ہے۔ کیونکہ4سے8 اشخاص کے لئے صرف ایک غسل خانہ ہوتا ہے۔ اس کے استعمال کے لئے اوقات بانٹ لیں، پانی ضائع نہ کریں۔
  • خواتین کپڑے دھونے کیلئے غسل خانے کو اندرسے بند کر کے دوسروں کو تکلیف نہ پہنچائیں۔
  • بیت الخلاء میں پتھر، اینٹ، کپڑے کے ٹکڑے، استعمال شدہ پتی، ترکاری اور چھلکے ہر گز نہ ڈالیں۔ کوڑا دان استعمال کریں۔ بیت الخلاء میں صرف ٹائلٹ پیپر یا پانی استعمال کریں۔
  • حرم شریف میں بھیڑ بہت ہوتی ہے۔ طواف کے دوران جیب تراشی کے واقعات بھی ہوجاتے ہیں اس لئے واپسی کا ٹکٹ اور نقدی اپنے پاس احتیاط سے رکھیں، گم ہونے کی صورت میں پاکستانی حج آفس میں فوری اطلاع کریں۔
  • مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آپ کی روانگی پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق ہی ہو گی۔ مقررہ تاریخ سے پہلے جانا ممکن نہیں ہوتا۔ ورنہ مدینہ منورہ میں آپ کی چالیس نمازیں بھی پوری  نہ  ہو ں گی اور خلاف ورزی کی صورت میں  آپ کو پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔  نیز مدینہ منورہ میں سرکاری رہائش بھی میسر نہ ہو گی۔